واشنگٹن (ویب
ڈیسک) دنیا بھر میں خواتین اپنے حسن کو چار چاند لگانے اور اسے تادیر
برقرار رکھنے کے لئے سوجتن کرتی ہیں اور عمومی طورپر بیوٹی پراڈکٹس میں
مضرصحت اور غلیظ چیزیں استعمال ہوتی ہیں ۔
ایک حالیہ رپورٹ میں
انکشاف ہواہے کہ فخریہ طورپر استعمال ہونیوالی بیوٹی پراڈکٹس میں پرندوں کی
بیٹ، مچھلی کے چھلکے ،گھونگھے کا لعاب، شارک فش کے جگر کا تیل، مرغی کا
تاج، بھیڑ کی چربی سمیت دیگر حیران کن اجزاءشامل ہوتے ہیں یہاں تک کہ
نومولود بچوں کے ختنے کی کھال تک کو جلد کی دوبارہ افزائش کے لئے حسن کو
نکھارنے والی اشیاءکا حصہ بنایا جاتا ہے۔
یادرہے کہ اس سے قبل لاہور
میں بیوٹی پراڈکٹس کے لیے فراہم کیے جانے والے مرے چوہے ، گدھا، جانوروں
کی شریانیں اور ہوٹلوں سے ہڈیاں کشیدکرکے مادہ نکالا جاتاتھا اور اِسی طرح
کا ایک مادہ پکوڑے سموسے بنانیوالوں کیلئے تیل کی شکل میں فراہم کیے جانے
کاانکشاف ہواتھا۔

0 comments:
Post a Comment