Tuesday, 16 September 2014

01:18
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ جمعہ کو سب سے بڑا مجمع ہوگا، وہ چیف جسٹس آف پاکستان کو پیغام دیناچاہتے ہیں کہ شریف برادران کے بعد وہ آئی جی اسلام آباد سے بھی نمٹ لیں گے لیکن بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرانااُن کی ذمہ داری ہے ، ہرحلقے میں دھاندلی سامنے آرہی ہے ، پرامن احتجاج تحریک انصاف کا جمہوری حق ہے ، پولیس کی پکڑدھکڑ اور کنٹینروںکیخلاف اسلام آبادہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہورہااور اب حالات کنٹرول سے باہرہوتے چلے جارہے ہیں ، عدلیہ اور وکلاءجمہوریت بچانے کیلئے اقدامات کریں ، اگر نوٹس نہ لیاگیاتوپرامن احتجاج کا راستہ تو بند ہوسکتاہے لیکن خوابی انقلاب کادروازہ کھل جائے گا۔
دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کاکہناتھاکہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان اور وکلاءکو پیغام دیناچاہتے ہیں کہ چاردن سے 20ہزار سے زائد پولیس اہلکارتعینات ہیں جو رات گئے دھرنے سے واپس جانیوالوں کو پکڑپکڑکر جیلوں میں ڈال رہے ہیں ، رات کو بھی دولڑکوں کو بری طرح تشددکانشانہ بنایاگیاجس پر تصادم شروع ہوگیا، اِس سے ایک دن پہلے خوداُنہوں نے کانفرنس کے بعد دھرنے میں شرکت کرنیوالے ڈاکٹروں کو تھانہ بارہ کہومنتقلی سے بچایااوراستفسار پولیس اہلکاروں نے بتایاکہ ”اوپر“ سے احکامات ہیں ۔ وہ اپیل کرتے ہیں کہ جمہوریت بچالیں کیونکہ ہائیکورٹ نے اجازت دی تھی اور کنٹینر ہٹانے کا حکم دیاتھالیکن کنٹینر تو نہیں ہٹائے جاسکے البتہ کارکنان کی گرفتاریوں میں پولیس بڑھ چڑھ کر کام کررہی ہے ، احتجاج تحریک انصاف کا جمہوری حق ہے اور جمعہ کو سب سے بڑااجتماع ہوگا۔
اُنہوں نے کہاکہ اب چیف جسٹس پر ذمہد اری عائد ہوتی ہے کہ وہ جمہوریت کو بچائیں اور ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل کرائیں کیونکہ کنٹینروں کی وجہ سے سکول بند ہیں اور لوگوں کو مشکلات کا سامناہے ۔ عمران خان کاکہناتھاکہ شریف بادشاہوں کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے جمہوریت نظر نہیں آتی ، صرف اُس وقت جمہوریت یادآتی ہے جب دھاندلی کی بات ہو، وہ واضح کرناچاہتے ہیں کہ آگے ملک سول وار کی طرف جائے گاکیونکہ پولیس نے جوطریقہ اپنارکھاہے اُس پر کارکنان مقابلے کیلئے تیار ہیں ، آج بھی پمزمیں 17لاشیں پڑی ہیں جو اعلیٰ حکومتی شخصیات کے احکامات پر سامنے نہیں لائی جارہیں ، وہ عدلیہ سے استدعاکرتے ہیں کہ ملک کو خون خرابے سے بچالیں ۔
عمران خان کاکہناتھاکہ عجیب جمہوریت ہے جس میں سب کھڑے ہوکر دھاندلی کی تصدیق بھی کرتے ہیں اور دوسری طرف نواز شریف کو استعفے سے بھی روکتے ہیں، یہ کھلاتضاد ہے ، ساری دنیا کی جمہوریت کا رواج ہے کہ جب تک تحقیقات ہوں تب تک آپ عہدوں سے الگ ہوجاتے ہیں ، کیونکہ غیرجانبدار تحقیقات نہیں ہوتیں اور نہ ہی ہمیں انکوائری قبول ہے ، آج تک ہرقسم کی چوری ، منڈی لانڈرنگ میں شریف برادران ملوث رہے جس کی اسحاق ڈار نے تصدیق کی،حکمران اپنی دولت بچانے کے لیے جمہوریت تباہ کرنے پر تلے ہیں ۔
اُن کاکہناتھاکہ یہ کیسی جمہوریت ہے ، کراچی میں بند ے مررہے ہیں ، پولیس وہاں نہیں جاتی لیکن پرامن احتجاج کرنیوالے کارکنان کی پکڑدھکڑکے لیے پورے ملک کی پولیس اسلام آباد اکٹھی کررکھی ہے ، پولیس اہلکار کارکنان کو پکڑکر جیلوں میں ڈالتے ہیں اور موبائل و پرس چوری کرلیتے ہیں کیایہی کام پولیس کا رہ گیاہے ؟ سب کو پتہ ہے کہ پولیس غیرقانونی کام کررہی ہے ، سپریم کورٹ پر حملے کے موقع پر پولیس خاموش رہی لیکن یہاں اورصورتحال ہے ، قانون تو سب کیلئے برابرہے ، رات کو کراچی ایئرپورٹ پر جوکچھ ہوا، لوگوں نے دیکھ لیا، اب قوم جاگ گئی ہے ۔
عمران خان نے کہاکہ پشتونوں کو بالخصوص نشانہ بنایاجارہاہے جو ملک کو لسانی فسادات کی طرف لے جائے گااور پھر معاملات قابو سے باہرہوں گے ، پرامن لوگوں کو پھر روکنا مشکل ہوگا، عدالتی کی ذمہ داری ہے کہ قانون پر عمل درآمد میں رکاوٹ بننے والوں کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے کیونکہ یہ لوگ اب بھیڑ بکریوں کی طرح ظلم برداشت نہیں کریں گے ، واضح کرتے ہیں کہ جمعہ کو پولیس نے ایسی حرکت کی تو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی ، آئی جی طاہرعالم ، شریفوں نے توجاناہے ، تم کہیں نہیں جاﺅگے ، آپ ذمہ دار ہیں ،عمران خان قانون کے تحت چل رہاتھالیکن پولیس کی طرف کارکنان کے اغواءکی وارداتوں کے بعد اب مشکل ہوگیاہے کیونکہ اُن لوگوں کاکوئی جرم نہیں تھااور اب وہ خود عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرائیں گے،چیف جسٹس ملک کوسول وار اور انارکی سے بچالیں ۔

0 comments:

Post a Comment